کون:
یہ دم محض ان لوگوں کو میسر ہے جو کہ سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں یا جن لوگوں کو ایک مجاز شیخ کی براہِ راست اجازت حاصل ہے، اور وہ شیخ خود بھی صاحبِ اجازت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس صفحے کی رسائی محدود کر دی ہے۔ مِل حمد دم کی ایک قابِل ذکر بات یہ ہے کہ یہ کسی اور شخص کے لِیے بھی کیا جا سکتا ہے جو کہ غیر موجود ہو۔ مثال کے طور پر، یہ دم خاندان، دوست و احباب، رشتے دار، واقف کار، یہ کسی بھی شخص کے لِیے کیا جا سکتا ہے جو کہ موجود نہ ہو۔ مرحلہ نمبر ۴ (جس کا ذیل میں ذکر کیا گیا ہے) دور دراز کے معاملات میں محض سوچ کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ المختصر یہ کہ مِل حمد دم کرنے والے کے لِیے پابندیاں ہیں، لیکن اس کی کوئی حد نہیں کہ یہ دم کس کے لِیے کیا جا سکتا ہے۔ شاید وہ شخص جس کے لِیے آپ یہ دم کرنا چاہتے ہوں اور وہ دنیا کے دوسرے کونے میں موجود ہے، یہ دم اس معاملے میں بھی ٹھیک ہوگا۔ وہ مسلمان، غیر مسلم، سلسلسہ کا حصہ ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی، وہ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو ہمیں پسند کرتے ہوں یا ناپسند کرتے ہوں (خدا نہ کرے)، ان سب چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ یہ دم کسی بھی شخص کے لِیے، کسی بھی جگہ، اور کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔
کیا:
مِل حمد ایک قسم کا الحمد (سورہ فاتحہ) کا تغیر ہے، جس کو حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ نے جسمانی، دماغی، نفسیاتی، جذباتی، تحریکی، روحانی، ماحولیاتی، پیشہ ورانہ، مالی، مافوق الفطرت اور تعلقاتی مسائل کو کم کرنے میں مدد کے لِیے اختیار کیا تھا۔ یہ محض کچھ زمرہ جات ہیں جنہیں ہم نے کئی سالوں تک حل ہوتے دیکھا ہے۔ لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ کی کوئی حد نہیں، بالکل اسی طرح یہ بھی لاگو ہوتا ہے کہ کیسے وہ ہماری مدد کرنے آتا ہے۔ لہذا، ہمارے سلسلہ میں زیادہ تر دعائیں، دم، اوراد، وظائف حضرت بابا فریدؒ کے فضل کے طور پر ہمیں مِلے ہیں۔
کہاں:
یہ دم کسی بھی صات و ستھری جگہ پر کیا جا سکتا ہے۔ بہتر طریقہ (لازم نہیں) یہ ہے کہ یہ دم اکیلے میں کیا جائے تاکہ صحیح سے توجہ مرکوز کرسکیں۔
کب:
یہ دم دن ہو یا رات، کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، سرکارؒ تجویز کرتے تھے کہ یہ دم عشاء کی نماز کے بعد کیا جائے، جس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ وضو کی وجہ سے وہ شخص پہلے ہی صفائی و پاکی کی حالت میں ہے۔
۲۔ رات کے پرسکون ماحول میں توجہ مرکوز کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
۳۔ بالآخر، چونکہ نماز ابھی ادا ہوئی ہے، تو برکات کی مہک موجود ہے۔
کیوں:
مل حمد کو ایک الٰہی مدد کے برابر ایک نسخہ سمجھیں۔ اگرچہ، ہر کسی کے پاس اپنے خالق کی طرف ہاتھ اٹھا کر (یا توجہ مرکوز کر کے)، جو کچھ ان کے دل میں ہے، وہ مانگنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اور یہ محض خالق پر منحصر ہے کہ وہ ان کی خواہش کو جلدی پورا کرے یا تاخیر کرے۔ تاہم، خاص دعاوں کے کچھ غیر معمولی اثرات ہوتے ہیں۔ آپ غور کریں کہ کیسے قرآن مجید میں آیات ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے خود سکھایا ہے کہ اس سے کیسے سوال کیا جائے۔ وہ مانگنے کے کچھ طریقوں کو دوسرے طریقوں پر ترجیح دیتا ہے۔ مِل حمد بھی اُن نادر ترجیحی طریقوں میں سے ایک ہے کہ جسے بعض اولیاء کرام نے انتہائی مفید پایا ہے۔
کیسے:
سورہ الفاتحہ کو بطور مل حمد استعمال کرنے کے لِیے محض ۲ تبدیلیوں کی ضرورت ہے:
۱۔ ہم اس آیت سے آغاز کرتے ہیں: بسم اللہ الرحمن الرحی غور کریں کہ آخر میں "میم" موجود نہیں ہے۔ یہ ایک تبدیلی ہے۔
۲۔ اس تبدیل شدہ بسم اللہ کے بعد، ہم غیر موجود "میم" کو الحمد کے ساتھ جوڑتے ہیں جیسا کہ مندرجہ زیل ہے: مِل حمد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
۳۔ اس کے بعد ہم پڑھتے ہیں: آمین، آمین، آمین
۴۔ پھر یہ کریں:
اپنی ہتھیلیوں پر پھونک ماریں، اور اپنے یا اپنے کسی پیارے (اگر دم
کسی اور کے لِیے کر رہے ہیں) کے جسم پر جتنا ممکن ہوسکے مسلیں۔
یہ ۴ مراحل، بالکل اسی ترتیب کے ساتھ، ایک مکمل سیٹ بناتے ہیں۔ مل حمد کو مکمل کرنے کے لِیے، اس سیٹ میں ۶ سیٹ مزید ملانے پڑتے ہیں جو کہ مجموعی طور پر ۷ سیٹ بنتے ہیں مل حمد کو مکمل کرنے کے لِیے۔
نوٹ: یہ پورا عمل تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر شروع کرنا چاہِیے۔ اور پھر اس عمل کو مکمل کرنے کے لِیے آخر میں تین مرتبہ درود شریف پڑھیں جو کہ مجموعی طور پر ۶ مرتبہ درور شریف ہو جائیں گے۔ براہِ مہربانی اس انتہائی اہم تفصیل کا خاص خیال رکھیں!
مل حمد کا دم آغاز سے اختتام تک اس طرح ہوگا:
درود شریف – ۳ مرتبہ -------- سیٹ ۱: مرحلہ ۱-۴ -------- سیٹ ۲: مرحلہ ۱-۴ -------- سیٹ ۳: مرحلہ ۱-۴ -------- سیٹ ۴: مرحلہ ۱-۴ -------- سیٹ ۵: مرحلہ ۱-۴ -------- سیٹ ۶: مرحلہ ۱-۴ -------- سیٹ ۷: مرحلہ ۱-۴ درود شریف – ۳ مرتبہ
