القابِ تعظیمی: ”مظہرِ کُل اوّلین والآخرین، تاجُ المحبّین والمحبوبین، فخر العشّاق والمُوحّدین، غوثِنا، غیاثِنا، مُغیثِنا، آقائِنا، سیّدِنا، سندِنا، مُرشدِنا، مولانا، ابو الارواح، تاجُ الاولیاء، حضرت غوث محمد بابا یوسف شاہ تاجیؒ۔ یا غوث، یا یوسف شاہ، یا بابا، اَغِثْنی وَاَمدِدْنی“۔ (آپ وہ بزرگ ہیں جو اوّلین و آخرین (پہلوں اور پچھلوں) کے تمام کمالات کا مظہر ہیں۔ محبّین (محبت کرنے والوں) اور محبوبین (محبوبوں) کے تاج ہیں۔ عاشقوں اور اللہ کے ماننے والوں کے فخر ہیں۔ آپ ہمارے مددگار، ہمارے سہارا، ہمارے نجات دہندہ، ہمارے آقا، ہمارے سردار، ہمارے رہنما، ہمارے مرشد، ہمارے مولیٰ، روحوں کے باپ اور اولیاء کرام کے تاج ہیں — حضرت غوث محمد بابا یوسف شاہ تاجیؒ۔ اے غوث! اے یوسف شاہ! اے بابا! ہماری مدد فرمائیے اور ہمیں اپنی روحانی امداد عطا کیجیے۔(
ابتدائی زندگی اور پس منظر
سرکارؒ کا اسمِ گرامی حضرت مولانا محمد عبد الکریم شاہ تھا اور آپ عوام میں سید بابا غوث محمد یوسف شاہ تاجیؒ کے نام سے معروف ہوئے۔
آپ کی وِلادت گنگاپور، سوائے مادھوپور (ریاستِ جے پور) میں سن ۱۸۸۵ء رمضان المبارک کے مہینے میں ہوئی۔ چند ماہ بعد والدہ ماجدہ کا وصال ہوگیا اور پرورش والدِ بزرگوار سید لال محمد شاہؒ نے فرمائی۔ ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں ہوئی جہاں قرآنِ کریم اور فارسی کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔ گھر کے حالات متوکلانہ تھے مگر علمی شوق نے بریلی شریف کا قصد کرایا تاکہ اعلیٰ تعلیم میسر آئے۔
دستارِ فضیلت اور حضرت ننھے میاںؒ کی دُعا
بریلی میں اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کے مدرسہ میں بارہ برس تک فقہ، حدیث اور منطق میں امتیازی کمال حاصل کیا اور درسِ نظامی بھی مکمل کیا۔
پھر اہلِ علم کے مشورے سے سیتا پور کے علما سے اسناد کی توثیق کروائی جنہوں نے علمی کسوٹی پر پرکھ کر خوش دلی سے تصدیق فرمائی۔ اس زمانے میں وعظ و ارشاد کے حلقوں میں آپ کی قدر و منزلت بڑھی۔ لباس اور وضع قطع بھی اُس دور کے واعظ و عالم کی شان کے مطابق تھی: ”بال کاکل کے انداز میں بڑھے ہوئے… ملینے کا لمبا کرتا… سبز عمامہ… واسکٹ میں چین والی جیبی گھڑی… دھوپ کا چشمہ… چاندی کی انگوٹھی… اور چھڑی“—یہی ایک واعظِ دین کی معمول کی زندگی تھی اور بڑے بڑے نذرانے بھی ملتے تھے۔
تقسیمِ اسناد کی تقریب میں حضرت سراج السالکین شاہ نظام الدینؒ (معروف بہ ننھے میاںؒ) صدرِ محفل تھے۔ انہوں نے سرکارؒ کو تخت پر بٹھا کر تلاوتِ کلامِ پاک اور سیرتِ پاک ﷺ پر وعظ کی دعوت دی۔ محفل کی روحانیت اور توجہِ خاص کے زیرِ اثر جذب و بے خودی کی کیفیت طاری ہوئی۔ پھر قدم بوسی کے وقت حضرت ننھے میاںؒ نے اپنا قدمِ مبارک سرکارؒ کے دوشِ مبارک پر رکھا اور فرمایا: ”جاؤ، میلاد النبی ﷺ کی محفلیں منعقد کرو اور دین کو پھیلاؤ“۔ سرکارؒ یہ واقعہ عشق و شوق سے بیان فرماتے: ”حضرت سراج السالکین کے قدمِ مبارک نے میرے واعظ میں وہ اثر پیدا فرما دیا ہے کہ لوگ میرا واعظ سننے کے لیے دور دور سے آکر جمع ہو جاتے ہیں“۔
اسی عرصے میں ہندوستان کے طول و عرض—ناگپور، احمدآباد، گجرات، مدراس، کاٹھیاوار، بمبئی، جوناگڑھ اور اتر پردیش کے بڑے شہروں—میں آپ کے خطبات کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ نذرانہ مقرر نہ کرتے، جو کچھ پیش ہوتا قبول کر لیتے اور اگر کچھ زیادہ محسوس ہوتا تو کم کرکے قبول فرماتے۔
تاہم دل کا مطالبہ یہی تھا کہ ”اس (دینی) علم میں کچھ روحانی عنصر بھی شامل ہوجائے تو طبیعت کو زیادہ شگفتگی میسر آئے“۔
یہی جذبہ آپ کو اجمیرِ شریف لے آیا کہ اگر کوئی کامل شیخ میسر آئے تو بیعت کی جائے—”میں کسی ایسے شیخ کا دامن تھاموں گا کہ جو روحانی مدارج کے ساتھ ساتھ علم کے اعتبار سے بھی فضیلت رکھتا ہو“۔
بیعتِ طریقت
درگاہ شریف کی مسجد میں مغرب کے بعد ایک بزرگ صورت، خوش رنگ، شیروانی و عمامہ میں ملبوس صوفی عبد الحکیم شاہ صاحبؒ کی طرف قلبی میلان محسوس ہوا۔ مصافحہ کے بعد انہوں نے محبت سے چائے پر مدعو کیا—”کچھ میری سنیے کچھ اپنی سنائیے“—اور حجرہ کی نفاست و قرینے نے طالبِ صادق کے دل میں مزید اعتماد بٹھا دیا۔
دورانِ گفتگو ان کی علمی بصیرت، نرم گفتاری اور قرآن فہمی نے متاثر کیا؛ سلسلہ قادریہ، رزاقیہ، چشتیہ، صابریہ میں صاحبِ اجازت ہونا بھی معلوم ہوا۔ قلبی تقاضا بڑھا تو عرضِ بیعت کی، انہوں نے فوراً شادمانی سے دستگیری فرمائی—”یہ بیعت ۱۹۱۲ء میں ہوئی“۔
صوفی صاحبؒ کے اوامر و وظائف پر آپ نے عزم و استقلال کے ساتھ عمل کیا، چند ہی ماہ میں خلافت و اجازت پائی اور تبلیغ و اشاعتِ سلسلہ پر مامور ہوئے۔ اب جہاں کبھی ایک عالم کی حیثیت سے وعظ فرماتے تھے، وہاں ایک شیخِ طریقت کی حیثیت سے لوگ جوق در جوق سلسلہ میں داخل ہونے لگے۔
کامیاب اسفار کے بعد جب اپنے مرشد کے ہمراہ حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے آستانہ پر حاضر ہوئے تو شدّتِ گریہ طاری ہوئی۔ قدم بوسی کے لیے پائنتی میں گھٹنے ٹیک کر سر رکھا تو ”سر سے ٹوپی اتر گئی، اور ایسی غائب ہوئی کہ پھر ملی ہی نہیں“؛ باہر آکر جہاں جوتے رکھے تھے وہاں بھی جوتے نہ ملے۔ ان واقعات سے سمجھا کہ اب سر ننگا اور پاؤں ننگے رہنا ہے؛ کاکل، عمامہ، واسکٹ، چین والی گھڑی اور چھڑی ترک کی؛ تہمد اور لمبا کرتا اختیار کیا—یوں عالمِ وعظ سے لباسِ درویشی میں تبدّل ہوگیا۔
حضرت بابا تاج الدینؒ کی بارگاہ میں حاضری اور فیصلہ کُن اشارے
دل میں ایک کھٹک بھی تھی کہ ”بابا صاحبؒ کے کشف و کرامات میں تو شبہ نہیں، لیکن پاسِ شریعت نہیں رکھتے“—یہ خیال لیے ایک مجمع میں قدم بوسی کو بڑھا تو بابا صاحبؒ نے قدم سمیٹ لیے اور ارشاد فرمایا: ”مولوی یہیں رہتے ہیں ورنہ ہم جھاڑ سے باندھ دیں گے“۔
اگلے دن ایک اور ہجوم میں معنوی نظر ڈالی، ”اپنا جبّہ مبارک اتار کر میری طرف زور سے پھینکا اور کہا: ‘لے، یہ تیری شریعت تجھے مبارک ہو’“—یہ اشارہ تھا کہ شریعت و طریقت کی حقیقت کو جمع کرنا ہے۔
پھر ارشاد ہوا: ”آپ واکی شریف میں بابا صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہو جائیے…“۔ سرکار یوسف شاہ باباؒ فرماتے ہیں کہ ”ہم نے تیاری شروع کی اور وہاں پُہنچے۔ تو میں نے دیکھا کہ جمِ غفیر ہے۔“
باوری میں قیام اور عالمِ جذب
ایک روز بابا صاحبؒ تیز تیز چلتے ہوئے آئے، میرا ہاتھ پکڑا اور قلعہ کے قریب ایک خشک باوری (سیڑھی دار کنواں) کے دہانے پر لے گئے… دیوار میں غار نما شگاف تھا۔ مجھے اندر بٹھایا اور فرمایا کہ
”حضرت بَس یہیں رہتے ہیں، چائے پیتے ہیں اور ‘اللہ اللہ’ کرتے ہیں۔
ضرورت کے وقت باوری کے باہر جا سکتے ہیں۔“
ان کے جانے کے بعد شام کو خُدا بَخش صِرف ایک پیالی چائے لے کرآئے اور مجھے کہا کہ،
”(یہ چائے) بابا صاحبؒ نے بھیجی ہے، پی لیں۔ آپ جب تک یہاں رہیں گے، ایک پیالی صبح اور ایک پیالی چائے شام کو مِلا کرتی رہے گی۔ اِس سے زیادہ کی خواہش ہو، تو بابا صاحبؒ آتے جاتے رہیں گے اُن کو بتا دیں۔“
بابا تاج الدّین باباؒ کی کرامت سے چالیس (۴۰) دِن تک اُن ہی دو پیالی چائے سے حَیات برقرار رہی، لیکن کمزور ہو گئے تھے۔
سرکار یوسف شاہ باباؒ زیادہ تر درُود شریف، درودِ تاج، سوره یٰسین شریف، سوره مُزمّل شریف، چہل کاف، قصیده غُوثیہ، اور مُثنوی شریف کا وِرد کرتے رہتے۔ جب کبھی رفعِ حاجت کی ضرورت ہوتی تھی، تو باوری سے باہر تالاب کے دوسرے کنارے تک فارغ ہو کر تازہ وضو کرتے اور واپس آجاتے۔
چالیس دن کے بعد جب خدا بخش چائے لے کر ئے تو کہا، ”چلیئے، آپ کو بابا صاحبؒ نے بلایا ہے۔“ میں سرکار یوسف شاہ باباؒ خُدا بخش کے ساتھ بابا صاحبؒ کی خِدمت میں حاضر ہوے، اور قدم بوس ہوا۔ اُس وقت بابا صاحبؒ نے فرمایا، ”آؤ یوسف!“۔ سرکار کا اسمِ گرامی عبدالکریم تھا۔ غالباً کُنویں یا باوری کی نِسبت سے یوسف کا لقب عطاٰء ہوا۔ اُس کے بعد سے سرکار ہمیشہ اپنا نام محمد یوسف عرف عبدالکریم لکھنے لگے۔
اسی ملاقات کے دوران، بابا تاج الدّینؒ نے اپنی نگاہِ کرم سے ایک فیصلہ کُن جملہ ارشاد فرمایا — وہ جملہ جو آنے والے وقت میں ان کی روحانی پہچان بن گیا۔
بابا صاحبؒ نے یوسف شاہ باباؒ کا ہاتھ پکڑ کر مجمع کے سامنے بلند کیا اور فرمایا۔
”اس سے سیکھو اور اس سے پڑھو،
یہ تاج الدّینؒ کے خزانے کی سب سے بڑی کُنجی ہے۔“
یہ وہ لمحہ تھا جب سرکار تاج الدّینؒ نے اپنے کامل خلیفہ کی علمی و روحانی وراثت کا اعلان فرمایا۔
یوں سرکار یوسف شاہ باباؒ کو وہ مقام عطا ہوا جو تعلیم و عرفان کی کنجی بن گیا — ایک ایسا فیض جو آج بھی سلسلے کے مریدین کے دلوں کو منوّر کرتا ہے۔
تبلیغ و اشاعت کے اسفار
بابا تاج الدینؒ کے حکم سے پہلا سفر مدراس سے شروع کیا۔ ”بڑی کثرت سے لوگ سلسلے میں داخل ہوئے… حتیٰ کہ کثیر تعداد میں ہندو بھی معتقد ہوئے۔“ کئی جگہوں پر ”اَرَتی“ کی رسم ادا کی جاتی، پیشانی پر تلک رکھا جاتا، سرکارؒ بلند مسند پر بٹھائے جاتے—یہ سب دلوں کی تالیف اور حقیقتِ توحید کی طرف تدریج کا حکیمانہ اسلوب تھا۔
اجمیر شریف برصغیر کا روحانی مرکز ہے؛ شہر و درگاہ کے ہر گوشے میں ذکر و فکر کے قافلے نظر آتے ہیں۔ ایسے ہی پس منظر میں تاج آباد شریف اور اجمیر شریف میں آپ کی قیام گاہوں اور زندگی کے اوصاف کو سمجھے بغیر سوانح نامکمل رہتی۔
سرکارؒ کے خُلق کی مٹھاس اور باطن کی صفائی بے مثال تھی؛ ایک واقعہ میں جب کسی نے جیب سے روپے نکال لیے اور بعد میں کسی نے پوچھا کہ ”کیا کافی ہیں؟“ تو فرمایا: ”سرکار کافی ہیں“۔ ارشاد ہوا: ”ہم کافی نہیں پوچھ رہے، گن کر بتاؤ کتنے پیسے ہیں“—پھر جیب سے پانچ روپے نکال کر عنایت فرمائے اور نرمی سے کہا: ”یہ رکھ لو، ہم سے جھوٹ نہیں بولا کرتے“۔ یہ جملہ آج بھی طالبِ صادق کے دل پر دستک دیتا ہے کہ باطنی صدق و صفا ہی سلوک کی بنیاد ہے۔
سرکارؒ کے نزدیک دین کی تعلیم میں روحانی عنصر کی شمولیت لازم تھی؛ اسی لیے آپ نے وعظ و میلاد کی مقبول مجلسوں سے ”سلوک“ کی طرف رخ پھیرا—نہ کہ ظاہری نمود، بلکہ شریعت و طریقت کی حقیقت کو جمع کیا۔ اجمیر میں ٹوپی اور جوتے کے ”غائب ہونے“ کا اشارہ ہو یا بابا تاج الدینؒ کے جبّہ کی خیر خواہی—ہر واردات نے آپ کو لباسِ درویش، سادگی اور دوامِ ذکر کی طرف متوجہ کیا۔
واعظ اور میلاد کی محفلوں میں آپ کی خوش الحانی اور اثر انگیزی کا شہرہ پہلے سے تھا، مگر ننھے میاںؒ کے قدمِ مبارک کی برکت نے اسے ملک گیر بنا دیا—”لوگ میرا واعظ سننے کے لیے دور دور سے آکر جمع ہو جاتے ہیں“۔ سلوک کے اسباب میسر آئے تو سلسلہ میں داخل ہونے والوں کے قافلے بن گئے۔
خدمتِ دین، دعوتِ محبت
سراج السالکین کے اذن کے بعد میلاد النبی ﷺ کی محافل آپ کی دعوت کا خاص وصف بنیں۔ نعتیہ ذوق اور حضورِ قلب کے ساتھ آپ کی محافل میں عشق و ادب کے چراغ روشن رہتے۔ آپ نے سنتِ نبوی ﷺ اور اتباعِ شریعت کو تصوف کا معیار بتایا، اور بابا تاج الدینؒ کے ارشاد کو راہ کی نزاکتوں کی شرح بنا کر سمجھایا کہ شریعت اور طریقت دونوں اپنے دائرے میں حق ہیں، ایک دوسرے کا مکمل کرتی ہیں۔
آخری ایّام، وصال اور مزار
حضرت تاج الدین اولیاءؒ کے فیضان اور حضرت صوفی عبدالحکیم شاہؒ کی تربیت سے جو دوہری نسبت (تاجی و یوسفی) آپ کے دِل میں راسخ ہوئی، وہی آپ کی تعلیم، دعوت اور تربیت کی جان بنی۔ آپ نے بیعت کو رسم نہیں، ربطِ دل سمجھا؛ شریعت کو بنیاد اور ذکر و محبت کو روح قرار دیا۔ اسی امانت کی حفاظت کے لیے آپ نے اجازت و خلافت کا دائرہ اعتدال اور تحقیق کے ساتھ قائم رکھا، مقصد کثرت نہیں، صدق کی کیفیت تھی۔
حجِ بیت اللہ کے بعد علالت کا سلسلہ بڑھا۔ اسی دوران سرکار نے مزاح و شفقت سے فرمایا:
”ارے تم لوگ میرے لیے یہاں کہاں گڑھے ڈھونڈتے پِھر رہے ہو؟
میری مَٹی یہاں کی نہیں ہے۔
میرا سَر پاکستان میں ہے، اور میرے پَیر پاکستان میں ہیں۔
مُجھے پاکستان لے چلو!
اور میرے سب بچوں کو لـکھ دو کہ جلد از جلد پاکستان پُہنچ جائیں۔
جو جتنی دیر میں پُہنچے گا، اُتنے ہی نقصان میں رہے گا۔“
المختصر سن ۱۹۴۷ء میں ماہِ شوال کے آخری عشرے میں، حضور اور حضور کے کچھ مُریدین کراچی آگئے۔ حالت بدستور بگڑتی رہی، اور ۲۹ ذیقعده اور یکم ذوالحَج کی درمیانی شب میں رات کو ڈیڑھ بجے (سرکار یوسف شاہ باباؒ نے) داعی اجَل کو ”لبیک“ (یا خُدا میں حاضر ہوں) کہا اور وِصال فرمایا۔
کراچی میں میوہ شاه قبرستان میں تدفین ہوئی۔ اور وہاں ایک عالی شان درگاہ جو خانقاہِ تاجیہ کے نام سے مشہور ہے، تعمیر ہو گئی۔ ۲۹ ذیقعده سے ۲ ذوالحَج تک بڑے پیمانے پر عُرس مُنعقد ہوتا ہے۔ ہر جمعرات کو فاتحہ ہوتی ہے۔ وابستگانِ سِلسلہ اور معتقدین حاضر ہوتے رہتے ہیں۔ ویسے بھی ظاہری اور باطنی فیوض حاصل کرنے کیلئے اہلِ کراچی مزار مبارک پر حاضری دیتے ہیں۔ سرکار یوسف شاہ باباؒ کی سوانح تفصیل میں پڑھنے کے لِیے آپ کی زندگی پر لکھی گئی جامع کتاب سرکار نامہ کا مطالعہ کریں۔

