BabaTajuddinRare

القاب: ”تاجُ الاولِیاء، تاجُ المِلّت و دِین، شہنشاہِ ہفت اقلِیم، جلوَہ گاہِ جَمالِ لم یَزَلی، حضرت سید مُحمد بابا تاج الدّین اولیاءؒ۔“

بابا صاحبؒ کی پیدائش مدراس میں ہوئی اور اُنہوں نے اپنی جوانی کی بیشتر زندگی ناگپور میں گزاری۔ بابا صاحبؒ کی اولیاء کرام کے جیسی صفات اُن کے بچپن کے دنوں سے ہی عیاں تھیں۔ جب آپکی مُلاقات ایک صوفی بزرگ حضرت عبدااللہ شاہ قادریؒ سے ہوئی، تو آپکی اِن صلاحیتوں کو مزید پروان ملی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اِن پیر بزُرگ نے اُس وقت کے نوجوان بابا صاحبؒ کو کچھ خُشک میوہ جات چبا کر کھانے کو دیئے۔ اِس عمل کے تحت، روحانی استغراق کی ایک ایسی کیفیت نے جنم لیا جو کہ جاری و ساری رہی اور وقت کے ساتھ ساتھ اِس کی شدّت میں بھی اِضافہ ہوا۔

بابا صاحبؒ کی بعد کی زندگی میں اُن کے ساتھ ایک اور معجزاتی واقعہ پیش آیا۔ متعدد بار حضرت داؤد مکیؒ کے مزار پر حاضری میں سے ایک بار قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے اُنہوں نے تین بار غیبی آواز سُنی، جس میں اُنہیں حُکم دیا گیا کہ، ”مانگو: جو تم چاہو، وہ عطاء کیا جائے گا۔“ پہلے تو وہ خاموش رہے۔ لیکن جب تیسری بار حُکم سُنا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ، ”یا رب، میں آپ سے آپ ہی کو مانگتا ہوں۔“ یہ خُدائی وعدہ پورا ہوا اور انکو نا ختم ہونے والی فنائیت خُدا کے ساتھ عطاء ہوئی۔ وہ اکثر اپنے مریدین کو کہتے تھے کہ، ”داؤد میرے لیئے ویسے ہی ہیں، جیسے میں تمہارے لیئے ہوں“۔ اُن کی زندگی کے مزید واقعات اور بالخصوص اُن کے حضرت غوث محمد بابا یوسف شاہ تاجیؒ کے ساتھ تعاملات سرکار اعلیٰ حضرت کی لکھی ہوئی کتاب سرکار نامہ میں تفصیل سے بیان کیئے گئے ہیں۔

This site is registered on wpml.org as a development site. Switch to a production site key to remove this banner.