تمام دیگر سلسلوں کی طرح، ہمارا سلسلہ محنت، لگن، اور حضرت محمد مصطفیٰؐ کے ساتھ ساتھ آپ کے بعد آنے والے تمام دیگر مشائخ اور اولیاء، جو اساتذہ کا ایک سلسلہ بناتے ہیں، کی باطنی تعلیمات کا پھل ہے۔ قارئین کی آسانی کی خاطر، ہم یہاں محض یوسفی سلسلہ کے بارے میں بات کریں گے۔ ہمارے سلسلہ کا مرکزی آغاز جزیرہ عرب سے ہوا اور پھر عراق > ایران > افغانستان > شمالی مغربی ہندوستان > وسطی ہندوستان > اور آخر کار جنوبی پاکستان کی جانب گیا۔
اس کا معنیٰ یہ ہے کہ ہمارے سلسلہ کی تاریخی اور ثقافتی جڑیں ایک ہزار سال سے بھی پہلے سے موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دینِ محمدؐ کے مجدد حضرت امام مہدیؒ، حضرت امام عسکریؒ کے سلسلہ نسب سے ہیں۔ اور کتنی عجیب بات ہے کہ حضرت بابا تاج الدینؒ بھی حضرت امام عسکریؒ کے سلسلہ نسب سے ہیں۔ ممکنہ طور پر، اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت بابا تاج الدینؒ نہ تو صرف خاتم الاولیاء ہیں، بلکہ حضرت بابا تاج الدینؒ ، نسبی حوالے سے، حضرت امام مہدیؒ کے رشتے کے ہم نسب بھی ہیں۔
دنیا میں بطور ایک واحد صوفی سلسلہ کے جو ولی الآخر الزمان کا عہد ہونے کا اعلان کرتا ہے، ہم بحیثیت ایک گروپ نہ صرف خوش قسمت ہیں، بلکہ ہمارے اوپر ایک بہت عظیم ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے شیخ، حضرت بابا شاہ محمود یوسفیؒ کی تعلیمات کو اپنی استطاعت کے مطابق اپنے اوپر لاگو کریں۔


