Frequently Asked Questions (FAQ)

  • What Is the Purpose of Our Silsila?

    Silsila Yousufi’s purpose is the same as what’s been instructed by Hazrat Baba Tajuddin (RA) to Hazrat Baba Yousuf Shah Taji (RA). And that is to spread Hazrat Baba Tajuddin (RA) himself. One can imagine that to be spreading the Silsila alone, and maybe even, spreading Hazrat Baba Tajuddin (RA)’s name. But that is not enough. A Silsila’s aim is never to simply become bigger and accumulate more people for the sake of becoming bigger. That is merely how various memberships to various clubs work in this temporary world for the sake of wealth and fame.

    The real objective was to spread Hazrat Baba Tajuddin (RA) himself. And that can only be done if every person in the Silsila became Hazrat Baba Tajuddin (RA) within themselves and further spread those teachings and that mindset. So in short, the purpose of Silsila Yousufi is to become like Hazrat Baba Tajuddin (RA) within ourselves. Our Sarkar, Hazrat Baba Shah Mehmood Yousufi very often gives the example of Hazrat Imam Hussain (RZ), that,

    "One cannot become Hussain. That is impossible!
    But Hazrat Imam Hussain (RZ) is there for us as an example, to imitate as close as possible."

    The same concept applies here. Silsila Yousufi is the Silsila adopted by Hazrat Baba Tajuddin (RA). And our purpose is to become as close as humanly possible to the likeness of Hazrat Baba Tajuddin (RA). This practice is not going to start as soon as one conjures up its mental image. Nor will it be fulfilled as soon as we would like.

    It's going to take time. Maybe a lifetime! Use the duration of that time wisely. Fill the needs of the needy as much as possible during this process. Help those that have little or no help during this process. Become a symbol of all those good things that Prophet Muhammad (SAW) taught his devotees. And if you cannot, at least become an embodiment of a person who "earnestly tried."

    ہمارے سلسلہ کا مقصد کیا ہے؟

    سلسلہ یوسفی کا مقصد وہی ہے جیسا کہ حضرت بابا تاج الدینؒ نے، حضرت بابا یوسف شاہ تاجیؒ کو ہدایت دی تھی۔ اور وہ ہدایت خود حضرت بابا تاج الدینؒ کو پھیلانا ہے۔ کوئی شاید یہ بھی سمجھے، کہ اس سے شاید مراد سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بھرتی کرنے کی ہے، یا شاید کے حضرت بابا تاج الدینؒ کے نام کی شہرت کرنا ہے۔ لیکن محض ایسا کرنا کافی نہیں ہے۔ ایک سلسلہ کا مقصد صرف وسیع تر ہونا، اور محض اِسی مقصد کے لئے لوگوں کو سلسلہ میں شامل کرنا، کبھی بھی نہیں ہوتا۔ اس فانی دنیا میں یہ کام تو صرف مختلف کلب، مختلف ممبر شپ دینے کے لِیے دولت و نمائش کی خاطر کرتے ہیں۔

    اصل مقصد تو خود حضرت بابا تاج الدینؒ کو پھیلانا تھا۔ اور یہ کام صرف ایسے ہوسکتا ہے کہ سلسلہ کا ہر فرد اپنے آپ میں حضرت بابا تاج الدینؒ بن جائے، اور ان تعلیمات اور ذہنیت کو مزید پھیلائے۔ تو قصہِ مختصر، سلسلہ یوسفی کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے آپ میں حضرت بابا تاج الدینؒ بن جائیں۔ ہمارے سرکار، حضرت بابا شاہ محمود یوسفی، اکثر اوقات حضرت امام حسینؓ کی مثال دیتے ہیں کہ

    ”کوئی بھی حُسین نہیں بن سکتا۔ یہ ناممکن بات ہے!
    لیکن بطور ایک نمونہ حضرت امام حسینؓ ہمارے لئے
    موجود ہیں کہ ہم جتنا ممکن ہوسکے اُن جیسے بن جائیں۔“

    یہی نظریہ یہاں لاگو ہوتا ہے۔ سلسلہ یوسفی وہ سلسلہ ہے جس کو حضرت بابا تاج الدینؒ نے اپنایا۔ اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ بطور ایک بشَر، جتنا ممکن ہوسکے، ہم حضرت بابا تاج الدینؒ کی مانند ہوجائیں۔ یہ مشق صرف غیر حقیقی خیالات سے نہیں شروع ہوگی۔ اور نہ تو یہ تب تک تکمیل کو پہنچے گی جب ہم چاہیں گے۔

    اس مشق کو تکمیل تک پہنچانے میں وقت لگے گا۔ شاید پوری زندگی! وقت کے اِس دورانیہ کو سمجھداری کے ساتھ گزاریں۔ اس مشق کے دَوران، ضرورت مندوں کی ضروریات کو جتنا ممکن ہوسکے پورا کریں۔ اس عمل کے دَوران ان لوگوں کی مدد کریں جن کو بہت تھوڑی یا کوئی بھی مدد حاصل نہیں ہے۔ اُن تمام اچھی چیزوں کی ایک علامت بنیں جن کی تعلیم حضرت محمدؐ نے اپنے عقیدت مندوں کو دی۔ اور اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے، تو کم از کم ایسے شخص کی طرح خود کو ڈھال لیں جس نے ”سنجیدگی سے اپنی پوری کوشش کی“۔

  • What Is a Sufi? What Is a Sufi Path?

    The etymology of the word Sufi comes not from the word “Suf” or Wool, as you see in many books and online. But in fact, it comes from “Saffah” which means a shade. It was earlier used in the context of “As-Haab al-Saffah” to designate those Sahaba who were poor, unmarried, and had no relatives in Makka Shareef. They were initially estimated to be just over a hundred. However, their numbers kept increasing and decreasing over time. These are known to be the earliest of the Sufi because of the type of time, focus, and attention that Prophet Muhammad (SAW) invested in them. They became highly educated in subjects of the Quran, Hadith, and Fiqh. As their outward education reached higher and higher, their inward spiritual maturity reached an even higher state of realization.

    From them, the concept of Tasawwuf reached the masses of the Muslim Ummah. Their teachings were in simple terms what our Sarkar, Hazrat Baba Shah Mehmood Yousufi coined as “Dil Ki Jillah, Aur Ruh Ki Parwaaz” or in English one can say that Tasawwuf provides a “Revival of the Heart, and an Ascension of the Spirit”. Sufi Path is the exact path that a person takes to reach the higher flight of the spirit. And just like not every bird takes the same route to fly, similarly, no two Sufis can also ever take a duplicate path either. These paths and directions will change based on individual needs, as well as strengths, weaknesses, as well as their guides on that Sufi path. As long as they all lead to Allah and His Beloved Messenger Prophet Muhammad (SAW). All is well, that ends well.

    صوفی کون ہوتا ہے؟ راہِ طریقت کیا ہوتی ہے؟

    لفظ صوفی، کئی کتابوں اور آن لائن کے ذرائع کے مطابق، لفظ "صوف" یا اون سے اخذ کیا گیا ہے۔ لیکن دراصل، یہ اخذ کیا گیا ہے "صُّفَّة" سے، جس کا مطلب ہے سایہ۔ پہلے یہ لفظ "أَصْحَاب الصُّفَّة" کے ضمن میں استعمال کیا جاتا تھا، اُن صحابہ کے لِیے جو غریب اور کنوارے تھے اور جن کا مکہ شریف میں کوئی رشتہ دار نہ تھا۔ ابتدائی طور پر اُن صحابہ کی تعداد ایک سو سے زیادہ تھی۔ تاہم، اُن کی یہ تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی اور کم ہوتی چلی گئی۔ حضرت محمدؐ نے ان صحابہ پر جو وقت، دھیان ، اور توجہ دی، اس وجہ سے یہ صحابہ صوفیاء کرام میں سے اوّل صوفی سمجھے جاتے ہیں۔ وہ صحابہ قرآن شریف، حدیث، اور فقہ جیسے مضامین میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوگئے۔ جیسے جیسے اُن کی ظاہری تعلیم و تدریس بلندیاں چھونے لگی، اُن کی باطنی روحانی تکمیل شعور کی مزید بلندیوں پر پہنچ گئی۔

    انہی صحابہ سے، تصوّف کا تصوّر اُمت مسلمہ کی عام عوام تک پہنچا۔ ان کی تعلیمات سادہ الفاظ میں وہی تھیں جو ہمارے سرکار حضرت بابا شاہ محمود یوسفی "دل کی جِلہ، اور روح کی پرواز" کے طور پر وضع کی تھیں۔ راہِ طریقت وہی راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے انسان روح کی اونچی پرواز تک پہنچتا ہے۔ اور جس طرح ہر پرندہ پرواز کرنے کے لِیے ایک جیسا راستہ اختیار نہیں کرتا، اسی طرح، دو صوفی بھی کوئی ایک راستہ کبھی بھی اختیار نہیں کرسکتے۔ یہ راستے اور سمتیں انفرادی ضروریات کے ساتھ ساتھ طاقت، کمزوریاں، اور راہِ طریقت کے رہنماوُں کی بنیاد پر تبدیل ہوں گی۔ جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے نبی حضرت محمدؐ کی جانب رہنمائی فرماتے ہیں۔ وہ سب کچھ ٹھیک ہے جس کا اختتام اچھا ہوتا ہے۔

  • What is Tasawwuf?
    In general terms, it's synonymous with the Sufi Path. But to give it another perspective, Tasawwuf is the name given to the study of attainment of the 3rd layer of our deen. The first layer is Islam, the second layer is Imaan, and the third layer that Tasawwuf deals with is Ihsaan. Through Hadith of Jibraeel, we learned the following from Prophet Muhammad (SAW):

    Islam:

    1. To attest to one God Allah and that Prophet Muhammad (SAW) is his messenger (Shahadat).
    2. To establish prayer (Salat).
    3. To give to charity (Zakat).
    4. To fast during the month of Ramadan (Sawm).
    5. And perform pilgrimage if one is able (Hajj).

    Imaan:

    1. Believe in Allah (Tauheed).
    2. Believe in Allah’s Angels (Malaikatihi).
    3. Believe in Allah’s Books (Kutubihi).
    4. Believe in Allah’s Prophets (Rasulihi).
    5. Believe in Allah’s Appointed Judgement Day (Yawmil Akhiri).
    6. Believe in what Allah describes as Good and Bad (Khairihi Wa Sharrihi).

    Ihsaan:

    • To worship Allah, as if you see him.
    • And if that is not possible for you, then worship him, knowing fully that Allah sees you.

    The study of Islam can be understood if one were to study Shariah, which includes etiquettes and cleanliness. Similarly, Imaan can be understood better, if one were to dive into the knowledge base of Hadith and Sunnah, as well as Tariqah. Tasawwuf is the practice that usually starts when a person has already attained Islam and Imaan and is now looking forward to understanding Ihsaan. Tasawwuf can also be thought of as a path to Haqiqat and Ma’arifat. There is no end to Tasawwuf, the way of the As-Haab al-Saffah. If one were to really believe that they see Allah, can there really ever be an end to that view?

    تصوّف کیا ہے؟

    عام زبان میں، یہ راہِ طریقت کا مترادف ہے۔ لیکن دوسرے نقطہ نظر میں، تصوّف وہ نام ہے جسے ہمارے دین کی تیسری تہہ کی تَکميل پَذيری کے مطالعے کو دیا جاتا ہے۔ پہلی تہہ اسلام ہے، دوسری تہہ ایمان ہے، اور تصوّف کی تیسری تہہ احسان ہے۔ حدیث جبرائیل کے مطابق، ہم نے حضرت محمدؐ سے مندرجہ ذیل باتیں سیکھیں:

    اسلام

    ۱. اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے کی اور حضرت محمد اللہ کے نبی ہے، کی گواہی دینا (شہادت)۔

    ۲. نماز قائم کرنا (صلاة)۔

    ۳. صدقہ خیرات کرنا (زکوٰۃ)۔

    ۴. رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھنا (صوم)۔

    ۵. اور زندگی میں کم سے کم ایک بار کعبہ اپنا طَواف گاہ بنانا (حج)۔

    ایمان

    ۱. اللہ پر یقین کامل ہونا (توحید) ۔

    ۲. اللہ کے فرشتوں پر یقین کامل ہونا (مَلئِكَتِه)۔

    ۳. اللہ کی کتابوں پر یقین کامل ہونا (كُتُبِه)۔

    ۴. اللہ کے نبیوں پر یقین کامل ہونا (رَسُوْلِه)۔

    ۵. اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ یومِ آخرت پر یقین کامل ہونا (الْيَوْمِ الْاخِرِ)۔

    ۶. اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو اچھا یا بُرا بیان فرمایا ہے، اس پر یقین کامل ہونا (خَيْرِه وَشَرِّه)۔

    احسان

    •اللہ تعالیٰ کی ایسے عبادت کرنا کہ گویا اُس کو آپ دیکھ رہے ہوں۔

    •اور اگر ایسا آپ کے لِیے ممکن نہیں ہے، تو اس ایمان سے اُس کی عبادت کرنا کہ جیسے اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہے ہوں۔

    اگر کوئی شریعت کا مطالعہ کرے، تو اسلام کے مطالعہ کو سمجھ سکتا ہے، جس میں آداب اور صاف صفائی شامل ہیں۔ اسی طرح، ایمان کو بھی اس طرح سے بہتر سمجھا جا سکتا ہے کہ جب کوئی حدیث، سنت، اور طریقت کے علوم میں توجہ مرکوز کرے۔ تصوّف وہ عمل ہے جو عموماً تب شروع ہوتا ہے جب ایک انسان اسلام اور ایمان کے مراحل کی تکمیل کرچکا ہوتا ہے اور احسان کو سمجھنے کا منتظر ہوتا ہے۔ تصوّف کو بطور حقیقت اور معرفت کی راہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ تصوّف کی کوئی انتہا نہیں ہے، أَصْحَاب الصُّفَّة کا طریقہ۔ اگر کوئی واقعی یہ یقین کر لے کے وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے، تو کیا واقعی اس شاندار منظر کا کبھی اختتام ہوسکتا ہے؟

  • What Is a Murshid? What Is a Sheikh?

    The term comes from one of the 99 Asma-ul-Husna, “Ar-Rasheed”. This name itself means “The Guide”. Since it’s Allah’s name, whom he guides, never goes astray. Similarly, when amongst human beings, when a person is chosen to be a guide, is called Murshid. In this context, Murshid is someone that a person chooses to guide them on the path of deen. Our Sarkar, Hazrat Baba Shah Mehmood Yousufi often cites Surah Kahf (18:17) when the topic ever came up. Allah clearly mentions in this Ayat, that whoever Allah holds strayed, finds neither a "Wali" nor a "Murshid". Which in retrospect means, that Allah provides Wali and a Murshid to those that he wants to guide. For this reason, people tend to look for those people that are Wali of Allah. A Sheikh is someone that is designated as an accomplished Guide by his Murshid. So there is a clear chain of authority from above.

    A thing to remember is that not all Wali’s are Murshid. But anyone chosen to be a Murshid needs to be a Wali. Similarly, not every Sheikh is your Sheikh. Simply because the Nisbat or relationship between a Murshid and a Mureed is a very close and private relation. Your Murshid has to have a full understanding of not just your Ruh, but also your psyche as well. Unfortunately, this selection of authorizing a person to become a Sheikh has not only recently become riddled with problems but has been for a very long time. It is for this reason that anyone looking for a Sufi Master, Murshid, or Sheikh take their time and thoroughly be satisfied before taking bay'at at the hands of anyone. Our own Sarkar, Hazrat Baba Shah Mehmood Yousufi says that he himself took a long time before deciding to take bay'at. It's not something one should do in haste, under peer pressure or even courtesy.

    مرشد کیا ہوتا ہے؟ شیخ کیا ہوتا ہے؟

    یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے ۹۹ اسماء الحسنہ میں سے "الرشید" سے نکلا ہے۔ اس لفظ کا معنیٰ "راستہ دکھانے والا یا رہنما" ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک نام ہے، تو جس کو وہ راستہ دکھاتا ہے، وہ کبھی نہیں بَھٹکتا۔ اسی طرح، بنی نوع انسان کے درمیان میں سے، جب کسی کو بطور ایک رہنما چُنا جاتا ہے، تو وہ مرشد کہلاتا ہے۔ اسی ضمن میں، مرشد وہ ہوتا ہے جس کو کوئی شخص دین کی راہ پر چلنے میں رہنمائی کرنے کے لِیے منتخب کرتا ہے۔ جب بھی یہ موضوع گفتگو میں آتا ہے، تو ہمارے سرکار حضرت بابا شاہ محمود یوسفی صورہ کہف (18:17) کا حوالہ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں واضح بیان کرتے ہیں کہ جس کو بھی اللہ تعالیٰ بھٹکاتے ہیں، اس شخص کو نہ تو کوئی "ولی" ملتا ہے، اور نہ ہی کوئی "مرشد"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ولی اور مرشد عطا فرماتے ہیں جن لوگوں کی اللہ تعالیٰ رہنمائی فرمانا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے، لوگ ایسے لوگوں کی کھوج میں لگے ہوتے ہیں جو ولی اللہ ہوں۔ ایک شیخ وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے مرشد کی جانب سے ایک مکمل رہنما نامزد کیا گیا ہوتا ہے۔ لہذا، اوپر سے اسناد کا ایک واضح سلسلہ موجود ہوتا ہے۔

    ایک چیز جو آپ کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ ہر ولی مُرشد نہیں ہوتا۔ لیکن کوئی بھی شخص جس کو مرشد بننے کے لِیے چُنا جاتا ہے، اس کا ولی ہونا ضروری ہے، اور یا پھر کم از کم، نسبتِ محمد مصطفٰی۔ اسی طرح، ہر شیخ آپ کا شیخ نہیں ہوتا۔ محض اس لِیے کہ مُرشد اور ولی کے درمیان نسبت ایک انتہائی قریبی اور نِجی رشتہ ہوتا ہے۔ آپ کے مرشد کو نہ صرف آپ کی روح کی مکمل سمجھ ہونی چاہیے، بلکہ وہ آپ کی نفسیات کو بھی جانتا ہو۔ بدقسمتی سے، کسی فرد کو ایک شیخ بننے کی اجازت دینے کا یہ انتخاب موجودہ دور میں ہی صرف مسائل سے دوچار نہیں ہے، بلکہ ایسا کافی عرصہ سے ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی شخص ایک ولی، مُرشد، یا شیخ کی تلاش میں اپنا پورا وقت لیتا ہے اور کسی شخص کے ہاتھ بیعت ہونے سے پہلے مکمل طور پر مطمئن ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔ ہمارے اپنے سرکار، حضرت بابا شاہ محمود یوسفی کہتے ہیں کہ خود انہیں بھی بیعت کے سلسلے میں فیصلہ کرنے میں بہت وقت لگا۔ یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ کوئی شخص اس کو جلدبازی میں، دوستوں کہ دباؤ میں آکر، یا یہاں تک کے آدب میں آکر کرے۔

  • Is Being a Sufi Different from Islam?

    In short, it's not different at all. Let us explore why. When a person marries, do they stop being a human being from that point? Are they simply husband and wife and not human beings any longer? Of course not! They can be two things at the same time. But now, let's flip this logic a bit. Every married person is a human being. But not every human is married. Similarly, every Sufi is a Muslim, but not every Muslim is on the Sufi Path.

    At the core, Islam is the most fundamental foundation that Prophet Muhammad (SAW) preached to everyone. The rules of Islam apply to all Muslims, Sufi or otherwise. In fact, to communicate the importance of Islam (Shariah), Prophet Muhammad (SAW) became a living embodiment of what any Muslim can and should follow. However, there were certain esoteric teachings that Prophet Muhammad applied to certain individuals that were not meant for the masses. While these individuals were given this training, they still remained Muslims as there were no contradictions between the two teachings.

    Take the example of following the Sunnah. Following some of the ways of Prophet Muhammad (SAW) is not mandatory, yet some people make a point to adopt them. It takes them to a higher plane of devotion, but certainly, it does not deviate them from Islam. In fact, just the opposite.

    Knowing all this, the topic becomes hard to understand. However, when we see someone who proclaims to be a Christian Sufi, Jewish Sufi, or Agnostic Sufi, etc.. These are rare occurrences that do happen but are not claimed to be in accordance with any Authentic Sufi Order whatsoever. One can never deviate from the criteria set forth in Islam and Imaan before following the path of Ihsaan. That said, there are numerous non-Muslim devotees of many Sufi Masters. However, their path to the creator is different than that of Muslims. Tasawwuf is Prophet Muhammad (SAW)'s teachings to revive the heart (dil ki jila) and to give ascension to the soul (ruh ki parwaz). One doesn't have to convert to take advantage of it. Just as one doesn't have to convert to take advantage of a flowing river. Inner reversion and inner conversion is already part of Tasawwuf but not in the way people think. When a person pledges loyalty and love to another person, how can they remain the same ever again? Who knows where they are in their journey of Tasawwuf?

    کیا صوفی ہونا اسلام سے مختلف ہے؟

    مختصراً، یہ اسلام سے مختلف نہیں ہے. آئیے، اس کی وجہ دریافت کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص بیاہ کرتا ہے، تو کیا وہ اُس لحاظ سے ایک انسان نہیں رہتے؟ کیا وہ اب محض میاں اور بیوی ہیں، کیا وہ انسان نہیں رہے؟ بالکل نہیں! وہ بیک وقت دو کردار ہوسکتے ہیں۔ اب اس منطق کو تھوڑا دوسری طرف سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر شادی شدا شخص ایک انسان ہے۔ لیکن ہر انسان شادی شدہ نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح، ہر صوفی مسلمان ہے، لیکن ہر مسلمان صوفی طریقت کی راہ پر نہیں ہوتا۔۔

    اصل میں، اسلام ایک انتہائی بنیادی اصول ہے جس کی حضرت محمدؐ نے سب کو تبلیغ کی۔ اسلام کے قواعد و ضوابط تمام مسلمانوں پر لاگو ہوتے ہیں، چاہے وہ صوفی ہے یا نہیں۔ دراصل، اسلام کی اہمیت (شریعہ) بیان کرنے کے لِیے، حضرت محمدؐ ایک زندہ نمونہ بن گئے کہ جس کی ہر مسلمان پیروی کر سکے اور کرنی بھی چاہیے۔ تاہم، کچھ ایسی باطنی تعلیمات تھیں، جن کا اطلاق حضرت محمدؐ نے خاص اشخاص پر کیا اور وہ عام عوام کے لِیے نہیں تھیں۔ جب ان افراد کو اس کی تربیت دی گئی، تب بھی وہ مسلمان ہی رہے، کیونکہ ان دو تعلیمات میں کوئی بھی تضاد نہیں ہے۔

    آپ سنت نبویؐ کی مثال کو دیکھ لیں۔ حضرت محمدؐ کے بعض طریقوں پر عمل بجا لانا لازمی نہیں ہے، لیکن پھر بھی کچھ لوگ ان پر عمل کرتے ہیں۔ یہ ان کو بندگی اور عقیدت کی بلندیوں پر لے جاتا ہے، لیکن یہ ان کو اسلام سے منحرف نہیں کرتا ہے۔

    یہ سب جان لینے کے بعد، اس موضوع کو سمجھنا اور مشکل ہوجاتا ہے کہ جب ہم کسی ایسے فرد کو دیکھتے ہے جو عیسائی صوفی، یہودی صوفی، یا اگنوسٹک صوفی وغیرہ ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ ایسے واقعات  ہوتے تو غیر معمولی ہیں، لیکن یہ کسی بھی مستند سلاسلِ طریقت کے مطابق نہیں ہوتے ۔ احسان کے راستے پر چلنے سے پہلے، کوئی بھی شخص اسلام اور ایمان کے اصولوں سے انحراف نہیں کر سکتا۔ لہذا، بہت سے صوفیاء کرام کے بیشمار غیر مسلم عقیدت مند موجود ہیں۔ تاہم، خالق کی جانب ان کا راستہ مسلمانوں سے مختلف ہے۔ تصوف دل کی جِلا اور روح کی پرواز کو زندہ کرنے کے لِیے حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات میں سے ہے۔ اس سے فوائد حاصل کرنے کے لِیے کسی کو اسلام قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے بہتے ہوئے دریا سے فائدہ اٹھانے کے لِیے کسی کو ایمان بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اندرونی تغیر و تبدیلی پہلے سے ہی تصوف کا حصہ ہے، لیکن ویسے نہیں جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ جب ایک شخص کسی دوسرے شخص کے ساتھ وفا اور پیار کا عہد کرتا ہے، تو پھر وہ کیسے ایک جیسے رہ سکتے ہیں؟ کون جانتا ہے کہ وہ اپنے تصوف کے سفر میں کس مقام پر ہیں؟

  • What is Wahdat-al-Wujood?

    We'll try to lay down a very rudimentary and general overview of the concept here for now.

    The "Unity of Existence" is a very ancient concept. And Allah gives hints of it in Quran. Further, the Hadith gives a few points that shed a bit more light on the concept. But the term got most of its popularity from ongoing discourses of Hazrat Ibn al-Arabi RA. The idea in laymen's terms is, that when there was nothing, aside from Allah. Everything that came to be, is part of Allah. The building blocks of everything in its utter finality rests with Allah. So there's Allah's own being that unites everything in existence since there's nothing existing that he did not become a building block of.

    On the opposite end of this spectrum is the concept of "Wahdat ash-Shahood" or "Unity of Perception" that was taught by Hazrat Ahmad Sirhindi RA. This concept also gained a lot of ground during the 1600s. This idea was thought to be an exact antithesis of Hazrat Ibn al-Arabi's RA teachings. He believed in the concept that everything is united with Allah only in perception. And that once Allah created the creation, the creation is no longer in unity with Allah.

    وحدت الوجود کیا ہے؟

    فی الوقت، ہم یہاں وحدت الوجود کا ایک انتہائی بنیادی اور عمومی خاکہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

    وحدت الوجود ایک انتہائی قدیمی تصوّر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اس کے اشارے دیتے ہیں۔ مزید، حدیثِ نبوی بھی چند نکات بیان کرتی ہے جو اس تصوّر پر مزید روشنی ڈالتے ہیں۔ لیکن، اس لفظ کو اپنی زیادہ تر مقبولیت حضرت ابن العربیؒ کی گفتگو سے حاصل ہوئی۔ عام زبان میں وحدت الوجود کا معنیٰ یہ ہے کہ، جب کچھ موجود نہ تھا، اللہ تعالیٰ کے علاوہ۔ جو چیز بھی وجود میں آئی، وہ اللہ تعالیٰ کا ایک جُز ہے۔ ہر چیز کی بنیادی مادَّہ، اپنی حتمی شکل میں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ لہذا، اللہ تعالیٰ کی اپنی ذات ہے جو کائنات میں موجود ہر چیز کو جوڑتی ہے، کیونکہ کوئی ایسی چیز کا وجود نہیں، جس کا بنیادی مادَّہ اللہ تعالیٰ نہیں ہیں۔

    اسی نظریہ کے مخالف سرے پر "وحدت الشہود" کا تصوّر ہے جس کی تعلیم حضرت احمد سرہندیؒ نے دی تھی۔ وحدت الشہود نے بھی اپنی زیادہ تر مقبولیت ۱۶۰۰ء کی دہائی میں حاصل کی۔ یہ تصوّر حضرت ابن العربیؒ کی تعلیمات کے عین مخالف سمجھا جاتا ہے۔ ان کا اس تصور میں ماننا تھا کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ محض مشاہدے میں جڑی ہوئی ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو تخلیق یا پیدا کردیا، تو اب وہ تخلیق اللہ تعالیٰ کے ساتھ وحدت میں نہیں رہی۔

  • What Are the Most Important Principles of Tasawwuf?

    Most reference sources will explain that the four pillars of Tasawwuf are: Repentance, Sincerity, Remembrance, and Love. However, Sarkar Yousuf Shah Baba (RA) has simply focused his teachings on sincere love for the Sheikh. This act in itself brings forth all others in the line. As long as a mureed "sincerely" loves his Sheikh, repentance and the stages of remembrance will automatically start taking place. We have to understand that for an average person, repentance is a very strange concept. It won't start unless there's an unrelenting attraction that holds a person's attention to his or her creator. All that's needed to spark the desire to the creator is:

    Attraction to the Sheikh > Which turns into sincere love > Which further brings about repentance and constant remembrance.

    تصوّف کے اہم ترین بنیادی اصول کیا ہیں؟

    اکثر حوالہ جات کہ مطابق، تصوف کے چار ستون ہیں: توبہ ، اخلاص ، ذکر، اور محبت۔ تاہم، سرکار یوسف شاہ باباؒ نے محض شیخ کے ساتھ مخلص محبت کرنے کی تعلیمات پر ہی توجہ دی۔ یہ عمل بذاتِ خود، دوسرے تمام ستونوں پر بھی توجہ مرکوز کر دیتا ہے۔ جب تک ایک مرید "مخلصانہ" طور پر اپنے شیخ سے محبت کرتا رہتا ہے، تو توبہ اور اللہ کی یاد و ذکر کے مراحل خود بخود ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک عام آدمی کے لِیے، توبہ ایک نہایت ہی عجیب تصوّر ہے۔ یہ تب تک شروع نہیں ہوگی جب تک کوئی شدید کڑی کشش نہ پیدا ہوجائے جو کہ ایک شخص کی توجہ ہمیشہ اپنے ربّ کی طرف رکھے۔ ربّ کو پانے کی حسرت کو بڑھاوا دینے کے لِیے، جن تمام چیزوں کی ضرورت ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں

    شیخ کی رغبت > جو محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے > اور وہ پھر مزید ندامت اور مسلسل ذکر کا باعث بنتا ہے۔

  • Is Tasawwuf a Separate Sect Within Islam?
    The Sufi Way, or Tasawwuf, is not equivalent to any sect, namely Shia, Sunni, or their sub-variations. Tasawwuf is not a different form of Fiqh, such as Hanafi, Shazili, Jafari, etc. One of the most well-known Sufi Master, Hazrat Abdul Qadir al-Jilani (RA), subscribed to Hanbanli Fiqh, whereas Hazrat Khwaja Ghareeb Nawaz (RA) followed the Hanafi Fiqh. It proves that Tasawwuf is a very open and welcoming school of thought. There are also many non-Muslim devotees of many Auliya, namely our own Hazrat Baba Tajuddin (RA). There is also a lesson we can take away from Hazrat Baba Tajuddin (RA)'s biography, where one of his Shia devotees started copying the Sunni way of Salah. At this, Baba Sahib corrected him not to change just to fit in with other Fellow Pir Bhai.

    صوفی راہ یعنی تصوف کسی فِرقہ کے ہم معنی نہیں ہے، یعنی شیعہ، سنی، یا ان کی ذیلی اقسام. تصوف فقہ کی مختلف شکل بھی نہیں ہے، جیسے کہ حنفی، شاذلی، جعفری، وغیرہ. ایک معروف صوفی، حضرت عبدالقادر الجیلانیؒ، حنبلی فقہ کو قبول کرتے تھے، جبکہ ایک دوسرے معروف صوفی حضرت خواجہ غریب نوازؒ حنفی فقہ کا مطابقت کرتے تھے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ تصوف ایک بہت کھولی اور خوش آمدید نظریہ ہے۔ کئی اولیاء کے بے شمار غیر مسلم مریدین ہیں، جیسے ہمارے اپنے حضرت بابا تاج الدینؒ۔ حضرت بابا تاج الدینؒ کی سیرت سے ہم ایک سبق سیکھ سکتے ہیں، جہاں اُن کے ایک شیعہ مرید نے سنی نماز کے طریقے کو اپنانے کی کوشش کی۔ اس پر بابا صاحبؒ نے اُسے تصحیح کی، کہ دوسرے پیر بھائیوں کے ساتھ میل کرنے کی خاطر تبدیل نہیں کرنا چاہئے۔

  • How Does Tasawwuf Interpret the Concept of Divine Love?

    Tasawwuf views divine love as the essence of its spiritual path, emphasizing a deep, personal connection with the Divine. This love transcends mere ritualistic worship, aiming for a heartfelt devotion and the dissolution of the self into the divine presence. Practitioners seek to purify the heart, making it a receptacle for divine love, leading to an inner transformation that aligns the human will with divine will.

    تصوف خدا سے محبت کے تصور کو کیسے سمجھتا ہے؟

    تصوف خدائی محبت کو اپنے روحانی راستے کا جوہر سمجھتا ہے، جو خدا سے گہری اور ذاتی تعلق کو زور دیتا ہے۔ یہ محبت محض روایتی عبادت سے بالاتر ہے، جس کا مقصد دل کی گہری عبادت اور خود کو خدائی موجودگی میں ضم کرنا ہے۔ عمل کرنے والے اپنے دل کو پاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے خدائی محبت کے لئے ایک وصولی ذریعہ بن جاتا ہے، جو اندرونی تبدیلی کی رہنمائی کرتا ہے اور انسانی مرضی کو خدائی مرضی کے ساتھ مطابقت دیتا ہے۔

  • Can Tasawwuf Help in Personal Development and Self-Improvement?
    Yes, Tasawwuf places a strong emphasis on personal development and self-improvement. It encourages adherents to cultivate qualities such as humility, patience, and compassion, while working to overcome negative traits like egoism, anger, and envy. The practices and teachings of Tasawwuf aim to refine one's character and consciousness, promoting a holistic approach to spiritual and moral growth.

    کیا تصوف شخصی ترقی اور خود کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے؟

    جی ہاں۔ تصوف شخصی ترقی اور خود بہتری پر زور دیتا ہے۔ یہ مومِنِین کو عاجزی، صبر، اور ہمدردی جیسی خصلتوں کو فروغ دینے کی ترغیب دیتا ہے، جبکہ انہیں انا پرستی، غصہ، اور حسد جیسے منفی عادات پر قابو پانے کے لئے کام کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ تصوف کی مشقوں اور تعلیمات کا مقصد کسی شخص کے کردار اور شعور کو نکھارنا ہے، جو روحانی اور اخلاقی نشوونما کے لئے ایک جامع نقطہ نظر کو فروغ دیتا ہے۔

  • What Are the Daily Practices of a Sufi?
    Daily practices of a Sufi typically include ritual prayers (Salah), recitation of divine names (Dhikr), meditation (Muraqaba), reading spiritual literature, and adhering to a moral and ethical code guided by Sufi teachings. These practices are aimed at remembering and connecting with the Divine throughout the day, fostering a state of constant spiritual awareness and presence.

    ایک صوفی کی روزمرہ کی عملیات کیا ہیں؟

    ایک صوفی کی روزمرہ کی عملیات میں عموماً عباداتی نمازیں (صلاۃ)، خدا کے ناموں کی تلاوت (ذکر)، مراقبہ (مراقبہ)، روحانی ادبیات کی مطالعہ، اور صوفی تعلیمات کی رہنمائی میں اخلاقی اور اخلاقی اصولوں کی پابندی شامل ہوتی ہے۔ یہ عملیات دن بھرخدا کو یاد کرنے اور ان سے رابطہ قائم کرنے کے لیے انجام دی جاتی ہیں، جو کہ مسلسل روحانی شعور اور حضورکے حال کو فروغ دینے کا مقصد رکھتے ہیں۔

  • How Do Sufis View the Relationship Between the Soul and the Divine?
    Sufis view the relationship between the soul and the divine as one of intimate closeness and direct communion. They believe that the soul originates from the divine and yearns to return to its source. This spiritual journey is marked by a deepening of knowledge and love, culminating in the realization of unity with the Divine Essence.

    صوفیاء کرام کس طرح روح اور رَبّ کے درمیان تعلق کو دیکھتے ہیں؟

    صوفیوں کا ماننا ہے کہ روح اور رَبّ کے درمیان کا تعلق انتہائی قربت اور براہ راست مواصلت کا ہے۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ روح الہی سے نکلتی ہے اور اپنے ماخذ کی طرف واپس جانے کی خواہش رکھتی ہے۔ اس روحانی سفر کی نشانی علم اور محبت میں گہرائی کا اضافہ ہوتا ہے، جو الہی ذات کے ساتھ ایکتا کو محسوس کرنے تک پہنچتا ہے۔

  • What Role Does Meditation Play in Tasawwuf?
    Meditation, or Muraqaba, plays a very important role in Tasawwuf as a means of direct communion with the Divine. It involves quieting the mind and focusing the heart on the presence of Allah, seeking to experience spiritual insights and states of consciousness that bring the practitioner closer to the divine reality.

    تصوّف میں دھیان یا مراقبہ کا کیا کردار ہے؟

    مراقبہ، یا دھیان، تصوف میں اللہ کے ساتھ براہ راست ربط کے طور پر ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں دماغ کو ساکن کرکے دل کو اللہ کی موجودگی پر مرکوز کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے روحانی بصائر اور شعور کی ایسی حالتوں کا تجربہ کیا جاتا ہے جو عامل کو الہی حقیقت کے قریب لے کر جاتا ہے۔

  • How Is Knowledge Transmitted in Sufi Traditions?
    In Sufi traditions, knowledge is primarily transmitted through a direct, heart-to-heart connection between the Master (Sheikh) and Disciple (Mureed). This spiritual lineage ensures that teachings are not just theoretical but are accompanied by experiential wisdom and guidance, allowing for the personal transformation of the disciple.

    صوفی روایات میں علم کس طرح منتقل ہوتا ہے؟

    صوفی روایتوں میں، علم بنیادی طور پر استاد (شیخ) اور شاگرد (مرید) کے درمیان براہ راست، دل سے دل تک کے تعلق کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ یہ روحانی تسلسل یقینی بناتا ہے کہ تعلیمات صرف نظریاتی نہیں بلکہ تجرباتی حکمت اور رہنمائی کے ساتھ ہوتی ہیں، جو شاگرد کی شخصی تبدیلی کو ممکن بناتی ہیں۔

  • Can Women Participate in Sufi Practices and Orders?
    Women can and do participate fully in Sufi practices and orders. Historically, there have been many prominent female Sufis, and contemporary Sufi orders often include women as members, teachers, and leaders. Gender is not seen as a barrier to spiritual progress in Tasawwuf.

    کیا خواتین صوفی عملیات اور صوفی سلاسِل میں شرکت کرسکتی ہیں؟

    خواتین صوفی عملیات اور صوفی سلسلوں میں مکمل طور پر شرکت کرسکتی ہیں اور کرتی آرہی ہیں۔ تاریخی طور پر، بہت سی نمایاں خواتین صوفیوں کا ذکر ملتا ہے، اور موجودہ دور کے صوفی سلاسِل میں عورتوں کو اکثر اہلیت، اساتذہ، اور رہنماؤں کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ تصوف میں روحانی ترقی کے لئے جنسیت کو کوئی رکاوٹ نہیں سمجھا جاتا۔

  • What Is the Significance of Dreams in Tasawwuf?
    Dreams hold significant spiritual importance in Tasawwuf, often considered a means through which the Divine communicates guidance, warnings, or insights to the dreamer. Sufis pay close attention to their dreams, seeing them as an integral part of their spiritual journey and a way to receive divine wisdom.

    تصوف میں خوابوں کی کیا اہمیت ہے؟

    تصوف میں خوابوں کو روحانی اہمیت حاصل ہے، اور اکثر اسے ایک ایسا ذریعہ سمجھا جاتا ہے جس کے ذریعے الٰہی ہدایت، انتباہات، یا بصیرتیں خواب دیکھنے والے تک پہنچتی ہیں۔ صوفیاء اپنے خوابوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں، انہیں اپنے روحانی سفر کا ایک لازمی حصہ اور الہی حکمت حاصل کرنے کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں۔

  • How Does Tasawwuf Contribute to Peace and Social Harmony?
    Tasawwuf promotes peace and social harmony through its emphasis on universal love, compassion, tolerance, and the unity of all beings. By encouraging individuals to transcend their ego and recognize their inherent connection to others, Tasawwuf fosters a sense of global brotherhood and a commitment to the well-being of all.

    تصوف امن اور سماجی ہم آہنگی میں کیسے مدد فراہم کرتا ہے؟

    تصوّف یکساں محبت، رحم، برداشت اور تمام مخلوقات کی اتحادیت پر زور دینے کے ذریعہ امن اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔ فردوں کو ان کے انا کو عبور کرنے اور دوسروں کے ساتھ اپنے فطرتی تعلق کو شناخت کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے، تصوّف عالمی عالمی بھائی چارے کے احساس کو پروان چڑھاتا ہے اور سب کی بہتری کے لیے وابستگی کو فروغ دیتا ہے۔

  • What Is the Historical Impact of Tasawwuf on Global Culture?
    Tasawwuf has had a profound impact on global culture, influencing art, music, poetry, and literature. The teachings of Sufi saints have transcended religious and cultural boundaries, offering timeless wisdom on love, unity, and the human quest for meaning.

    تصوّف کا عالمی ثقافت پر تاریخی اثر کیا ہے؟

    تصوّف کا عالمی ثقافت پر گہرا اثر رہا ہے، جس نے فنون، موسیقی، شاعری، اور ادب کو متاثر کیا ہے۔ صوفی اولیاء کی تعلیمات نے، مذہبی اور ثقافتی سرحدوں کو پار کرتے ہوئے، محبت، اتحاد، اور انسان ہونے کے معنی کی تلاش پر لازوال حکمت پیش کی ہے۔

  • Why Is the Label Sufism Different than Tasawwuf?
    Using "ism" to describe practices or ideologies can sometimes carry negative connotations because it often denotes rigid doctrines or ideologies. In the context of "Sufism" versus "Tasawwuf," the concern is that labeling Tasawwuf as an "ism" could imply it's merely one of many ideological systems, potentially stripping it of its profound, experiential, and deeply spiritual essence rooted in Islamic practice. This reduction might overlook the dynamic, lived experience of Tasawwuf as an integral path within Islam, rather than a separate or fixed ideology.

    ”صوفیزم“ کا لفظ کیوں تصوّف سے مختلف ہے؟

    عملیات یا نظریات کی وضاحت کے لئے ”اسم“ کا استعمال کبھی کبھار منفی معانی رکھتا ہے، کیونکہ یہ عموماً سخت عقائد یا نظریات کو ظاہر کرتا ہے۔ ”صوفیزم“ بمقابلہ ”تصوّف “ کے تناظر میں، فکر یہ ہے کہ تصوّف کو ”اسم“ کے طور پر طے کرنا اس بات کا امکان ظاہر کرتا ہے کہ یہ محض بہت سے نظریاتی نظاموں میں سے ایک ہے، جو اس کے گہرے، تجرباتی، اور گہرے روحانی جوہر کو جو اسلامی عمل میں جڑا ہوا ہے، کم کر سکتا ہے۔ یہ تبدیلی شاید اسلام کے اندر ایک لازمی راستے کے طور پر تصوّف کے متحرک، زندہ تجربے کو نظرانداز کر سکتی ہے، اور اسے بطور ایک الگ یا مستقل عقیدہ کے پیش کر سکتی ہے۔