وحدت الوجود کیا ہے؟

Last Updated July 7, 2025

فی الوقت، ہم یہاں وحدت الوجود کا ایک انتہائی بنیادی اور عمومی خاکہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

وحدت الوجود ایک انتہائی قدیمی تصوّر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اس کے اشارے دیتے ہیں۔ مزید، حدیثِ نبوی بھی چند نکات بیان کرتی ہے جو اس تصوّر پر مزید روشنی ڈالتے ہیں۔ لیکن، اس لفظ کو اپنی زیادہ تر مقبولیت حضرت ابن العربیؒ کی گفتگو سے حاصل ہوئی۔ عام زبان میں وحدت الوجود کا معنیٰ یہ ہے کہ، جب کچھ موجود نہ تھا، اللہ تعالیٰ کے علاوہ۔ جو چیز بھی وجود میں آئی، وہ اللہ تعالیٰ کا ایک جُز ہے۔ ہر چیز کی بنیادی مادَّہ، اپنی حتمی شکل میں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ لہذا، اللہ تعالیٰ کی اپنی ذات ہے جو کائنات میں موجود ہر چیز کو جوڑتی ہے، کیونکہ کوئی ایسی چیز کا وجود نہیں، جس کا بنیادی مادَّہ اللہ تعالیٰ نہیں ہیں۔

اسی نظریہ کے مخالف سرے پر “وحدت الشہود” کا تصوّر ہے جس کی تعلیم حضرت احمد سرہندیؒ نے دی تھی۔ وحدت الشہود نے بھی اپنی زیادہ تر مقبولیت ۱۶۰۰ء کی دہائی میں حاصل کی۔ یہ تصوّر حضرت ابن العربیؒ کی تعلیمات کے عین مخالف سمجھا جاتا ہے۔ ان کا اس تصور میں ماننا تھا کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ محض مشاہدے میں جڑی ہوئی ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو تخلیق یا پیدا کردیا، تو اب وہ تخلیق اللہ تعالیٰ کے ساتھ وحدت میں نہیں رہی۔

This site is registered on wpml.org as a development site. Switch to a production site key to remove this banner.