تصوّف کیا ہے؟

Last Updated July 6, 2025

عام زبان میں، یہ راہِ طریقت کا مترادف ہے۔ لیکن دوسرے نقطہ نظر میں، تصوّف وہ نام ہے جسے ہمارے دین کی تیسری تہہ کی تَکميل پَذيری کے مطالعے کو دیا جاتا ہے۔ پہلی تہہ اسلام ہے، دوسری تہہ ایمان ہے، اور تصوّف کی تیسری تہہ احسان ہے۔ حدیث جبرائیل کے مطابق، ہم نے حضرت محمدؐ سے مندرجہ ذیل باتیں سیکھیں:

اسلام

۱. اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے کی اور حضرت محمد اللہ کے نبی ہے، کی گواہی دینا (شہادت)۔

۲. نماز قائم کرنا (صلاة)۔

۳. صدقہ خیرات کرنا (زکوٰۃ)۔

۴. رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھنا (صوم)۔

۵. اور زندگی میں کم سے کم ایک بار کعبہ اپنا طَواف گاہ بنانا (حج)۔

ایمان

۱. اللہ پر یقین کامل ہونا (توحید) ۔

۲. اللہ کے فرشتوں پر یقین کامل ہونا (مَلئِكَتِه)۔

۳. اللہ کی کتابوں پر یقین کامل ہونا (كُتُبِه)۔

۴. اللہ کے نبیوں پر یقین کامل ہونا (رَسُوْلِه)۔

۵. اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ یومِ آخرت پر یقین کامل ہونا (الْيَوْمِ الْاخِرِ)۔

۶. اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو اچھا یا بُرا بیان فرمایا ہے، اس پر یقین کامل ہونا (خَيْرِه وَشَرِّه)۔

احسان

•اللہ تعالیٰ کی ایسے عبادت کرنا کہ گویا اُس کو آپ دیکھ رہے ہوں۔

•اور اگر ایسا آپ کے لِیے ممکن نہیں ہے، تو اس ایمان سے اُس کی عبادت کرنا کہ جیسے اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہے ہوں۔

اگر کوئی شریعت کا مطالعہ کرے، تو اسلام کے مطالعہ کو سمجھ سکتا ہے، جس میں آداب اور صاف صفائی شامل ہیں۔ اسی طرح، ایمان کو بھی اس طرح سے بہتر سمجھا جا سکتا ہے کہ جب کوئی حدیث، سنت، اور طریقت کے علوم میں توجہ مرکوز کرے۔ تصوّف وہ عمل ہے جو عموماً تب شروع ہوتا ہے جب ایک انسان اسلام اور ایمان کے مراحل کی تکمیل کرچکا ہوتا ہے اور احسان کو سمجھنے کا منتظر ہوتا ہے۔ تصوّف کو بطور حقیقت اور معرفت کی راہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ تصوّف کی کوئی انتہا نہیں ہے، أَصْحَاب الصُّفَّة کا طریقہ۔ اگر کوئی واقعی یہ یقین کر لے کے وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے، تو کیا واقعی اس شاندار منظر کا کبھی اختتام ہوسکتا ہے؟

This site is registered on wpml.org as a development site. Switch to a production site key to remove this banner.